Please assign a menu to the primary menu location under menu

Articles

مری میں غیر انسانی لٹیرے مقامی یا بیرونی

مری ،کی طرح نتھیاگلی اور ٹھنڈیانی پر بھی مقامی افراد کی بجائے باہر کے سرمایاداروں کو زمین لیز پر دی جارہی ہے وہی لوگ اپنے بزنس ان سیاحتی مقامات پر شروع کرتے ہیں لوٹ مار باہر کے سرمایادار کرتے ہیں انسانیت سے گر کر مال و دولت کی ہوس میں اپنے اکاؤنٹ باہر کے سرمایادار بھرتے ہیں اور مفت کی بدنامی وہاں کے مقامی لوگوں کے حصے میں آتی ہے ۔

ہر دور کی حکومتوں نے اپنی پارٹی کے سرمایاداروں کو ان سیاحتی مقامات پر زمینیں الاٹ کیں اور وہاں سے اندھا دھند کمائی کی گئی مقامی خوائش مند افراد کے لئے شرائط اتنی کڑھی رکھی جاتیں ہیں کہ کوئی مقامی شحص وہاں زمین لینے کا سوچ بھی نہیں سکتا ۔آج جو کچھ مری میں ہوا اور جو ہوتا رہا اس سے ہمیشہ بار بار اور ہر بار بدنامی مری کی مقامی آبادی کی ہوئی ہے ۔

جب کہ مری کی مقامی آبادی کی اکثریت راولپنڈی اسلام آباد میں چھوٹے موٹے کاروبار کر کے اپنی زندگی کا پہیہ چلا رہی ہے۔ حکومت کو سرمایاداروں کی اس غنڈا گردی کو روکنے کے لئے ایسے تمام کاروباری لوگوں کے لائسنس اگر ہیں اور لیز ختم کر دینی چاہیئے جو ہوس کے مارے انسانی احساسات اور جانوں سے کھیل کر مقامی آبادی کی بدنامی کا باعث بھی بن رہے ہیں ۔

ہمیں خبر ہے ہم ہیں چراغ آخر شب ہمارے بعد اندھیرا نہیں اجالا ہے

بریکنگ پی کے

جواب دیں

%d bloggers like this: